۞أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
۞بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ
۞إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا

اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔”

“بے شک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔
(القرآن 65:3)

: تدبر
زندگی میں بہت سے ایسے مواقع آتے ہیں جب انسان خود کو ناامیدی کی کھائی میں گرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ زمین بہت تنگ محسوس ہوتی ہے۔ انسان کے اپنے اس کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر انسان اللّٰہ پر بھروسہ رکھے تو وہ اس کیلئے کافی ہو جاتا ہے۔ انسان کو یقین رکھنا چاہیے کہ میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا۔ اللّٰہ سے زیادہ کوئی بھی ہمیں نہیں سمجھ سکتا ہے۔ ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم کن حالات سے گزر رہے ہیں۔ لوگ تو ہمیں صرف جج کرتے ہیں۔ تبصرے کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کیا اپنے کیا پرائے، سب تنہا کر جاتے ہیں۔ ایسے میں وہ رب جس نے ہمیں ماں کے پیٹ میں پالا، رزق دیا، وہ ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اللّٰہ تبارک و تعالیٰ پر بھروسہ کریں۔
اگے فرمایا کہ اللّٰہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ساری دنیا بھی تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی جب تک اللّٰہ نہ چاہے۔ تو ہم کیوں لوگوں کی چالوں سے ڈر جاتے ہیں؟ کیوں ہمیں لگتا کہ ہم ان کی بات نہیں مانیں گے تو یہ ہمیں چھوڑ دیں گے، ہمارے خلاف ہو جائیں گے؟ انسان کو یقین رکھنا چاہیے کہ اللّٰہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ صبر سے حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
اس آیت کا آخری حصہ اپنے اندر بہت گہرائی سموئے ہوئے ہے۔ اللّٰہ نے ہر چیز کی تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔ اگر سبزیوں کو دیکھیں تو ٹماٹر کے بیج میں جو ڈی این اے موجود ہوتا ہے وہ یہ معلومات رکھتا ہے کہ اس سے ٹماٹر کا پودا ہی وجود میں آئے گا، کھجور کے بیج سے کھجور ہی پیدا ہو گی۔ کیونکہ یہی ان کی تقدیر ہے۔ کوئی پودا کتنا پھلے پھولے گا، یہ اس میں موجود ہارمونز جیسا کہ Auxin طے کرتے ہیں۔ ہر چیز کا اندازہ اللّٰہ نے پہلے سے مقرر کیا ہوا ہے۔
الیکٹرونز جو کے ایٹم میں موجود ہوتے ہیں، ان کے اپنے مخصوص انرجی لیولز ہیں۔ وہ درمیان میں کہیں نہیں رک سکتے ہیں۔ یہ پہلے سے طے ہوتے ہیں۔ یہی ان کی تقدیر ہے۔
ایسے ہی زمین ایک خاص مقدار میں سورج کے گرد گھوم رہی ہے، جس کی وجہ سے زندگی سانس لیتی ہے۔ انسان کی بھی تقدیر مقرر ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ: ہر شخص کی موت، رزق اور اعمال پہلے سے لکھ دیے گئے ہیں۔ پس اچھے اعمال اور نیک زندگی کی کوشش کرو، کیونکہ تقدیر کے اندر بھی عمل کا حصہ ہے۔(صحیح مسلم حدیث 2653)
انسان کی تقدیر کو دعا اور عمل بہتر بناتے ہیں۔
انسان کو اسباب اختیار کرنے چاہیے، لیکن بھروسہ صرف مسبب الاسباب پر رکھنا چاہیے۔ بے شک، انسان سمیت ہر چیز، ہر جاندار اپنی اپنی تقدیر کی طرف گامزن ہے۔

Writer: Mamoonah Tahir

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *