أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
۞وَمَنۡ يَّتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسۡبُهٗ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمۡرِهٖ ؕ قَدۡ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَىۡءٍ قَدۡرًا
ترجمہ: جو الله پر بھروسا کرے اس کے لیے وہ کافی ہے الله اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے الله نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے
آیت کا پہلا حصہ ہے کہ”جو اللہ پر بھروسہ کرے وہ اس کے لیے کافی ہے”
آپ تصور کریں کہ ایک شخص جسے شدید پیاس لگی ہو کہ اسکی ہونٹ پیاس کی شدت سے پھٹ رہے ہیں اور رگیں کچھی چلی جاتی ہے کیا وہ پانی کہ سوا کسی اور چیز کی خواہش رکھتا ہے یاں کوئی اور چیز ہی اسکے لیے مفید ہے؟
بالکل اسی طرح انسان کو اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ اس میں اپنے خالق سے تعلق کا ایک خانہ یا ضرورت رکھی گئی ہے جس کو کوئی دنیاوی چیز کوئی دنیاوی محبت نہیں بھر سکتی اور اگر انسان ایسا کرنے کی کوشش کرے تو اسکو سکون حاصل نہیں ہوتا اسکی روح تڑپتی ہے جس طرح پیاسا پانی کے لیے.
اگر دوسرے تناظر میں دیکھیں تو ایک انسان جو اسباب پر بھروسہ کرے یا کسی دوسرے انسان پر وہ کبھی اطمینان حاصل نہیں کر پاتا کوئی نہ کوئی اندیشہ اسکے اندر سر اٹھائے رکھتا ہے لیکن جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے تو پھر سکون اسکے رگ رگ میں اتر جاتا ہے.
دوسرا حصہ
“اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے”
اس حصہ کو اگر موجودہ دنیاوی حالات کے تناظر میں دیکھیں تو سمجھ آتی کہ دین کا غلبہ، کفار کی شکست اور مسلمانوں کی فتح یقینی ہے لیکن فکر اس امر کی ہے کہ کیا ان فاتحوں میں ہم بھی شامل ہیں؟
قرآن کی آیت کا ترجمہ ہے
ترجمہ:
اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے
یہ اللہ کا کام ہے کہ انسان وہی پائے گا جس کی وہ کوشش کرے گا تو ہمیں چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا کام کر گزریں باقی اللہ جانیں.
تیسرا حصہ ہے کہ” اللہ نہ ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے”
یعنی ہر شے کو ایک مقررہ وقت پر، مقررہ حساب سے ہونا ہی ہے اور نے کیسے ہونا وہ بھی طے پا چکا ہے.
لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ہماری تقدیر میں یہ ہونا لکھا ہے تو ہم کیوں اسکی کوشش کریں.
ایک مشہور واقع ہے کہ ایک شخص نی 99 قتل کیے پھر اس نے کسی سے پوچھا کہ کیا میری معافی ممکن ہے (ایک قتل پوری انسانیت کا قتل ہے جبکہ 99 قتل گویا اتنی ہی دفعہ پوری انسانیت کو قتل کرنا) تو اس سے کہا گیا ایسا تو ممکن نہیں. اس شخص نے اسکا بھی قتال کر دیا اور پورے 100 ہوگئے. پھر اسنے کوشش کی جاننے کی کہ آیا اس کے لیے معافی ہے یا نہیں تو ایک عالم نے اسے بتایا کہ تو فلاں جگہ جا کر آباد ہو توبہ کر تو فلاح پائے گا. راستہ میں اسکی موت واقع ہوگی اور اکو معافی مل گی.
اگر وہ شخص اس بات پر بیٹھا رہتا کہ میں نے اتنے قتل کر دیے میری تو کوئی معافی نہیں وہ گناہ کو ہی اپنی تقدیر سمجھ لیتا تو گناہگار ہی مر جاتا ہے اسی طرح اللہ نے ہر چیز، ہر انسان کی ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے کہ اس نے ہو کر رہنا ہے تو انسان کیوں کر پریشان ہوتا ہے کہ یہ کیسے ہوگا اسے تو صرف کوشش کرنی اور بہت محنت کرنی ہے
اللہ نے تقدیر مقرر کر رکھی یہ پختہ ہے کی ایسا ہونا ہے، کیا معلوم ہماری تقدیر میں کوشش ہی لکھی ہوئی کہ یہ شخص کوشش کرے گا تو اسے یہ چیز حاصل ہوگی۔